حالاتِ حاضرہ اور مولانا سمیع الحق ۔ طارق اسماعیل ساگر

Image

halat e hazra

One response »

  1. شہر قائد میں ہونے والی دہشت گردی لاقانونیت پر ہر محب وطن چاہے وہ کہی بھی بستا ہو خون کے آنسو روتا ہے۔
    ہر محب وطن ایک سوال پوچھنے پر حق بجانب ہے کہ شہر قائد جسے روشنیوں کا شہر کہتے تھے ،جسے غریبوں کی ماں کہتے تھے اور جہاں ملک کے طول وعرض سے بے شمارپاکستانی آ کر اپنی اور اپنے گھر والوں کی کفالت کا فرض ادا کرتے تھے۔
    جہاں آنے والے اپنی آنکھوں میں خواب لے کر آتے تھے، اور یہ شہر بلا رنگ و نسل ،بلا مذہب و فرقہ ان کے خوابوں کو تعبیر دیا کرتا تھا۔
    آج وہی مائی کلاچی کا شہر اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے ،خوابوں کی سرزمین پر اب خوابوں کی تعبیر کے بجائے بارود کی بو اور گولیوں کی گھن گرج سنائی دیتی ہے۔
    اس غریب پرور شہر میں جہاں مزدور دن بھر کی محنت و مشقت کے بعد کہیں بھی سڑک کنارے اپنی چادر بچھا کر نئے خواب بننے میں مصروف ہو جاتا تھا آج اسی شہر میں رہنے والے اپنے مکانوں میں بھی محفوظ نہیں ۔
    وہی روشنیوں کا شہر آج اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے ،اس شہر کی بربادی کے ذمہ دار کون ہے ہر شخص جانتا ہے لیکن پتا نہیں وہ کو نسا ایسا راز ہے کہ عدالت عظمی چیخ چیخ کر کہتی ہے کہ کراچی میں امن قائم کرو لیکن ہمارے یہ بے حس حکمران پتہ نہیں کونسی گولی کھا کر سو رہے ہیں دنیا کی تاریخ میں ایسے ریمارکس کسی عدالت نے نہیں دئیے جیسے عدالت عظمی نے سندھ حکومت اور وفاق کے متعلق دیئے ہوکہ کراچی میں مرنے والے ہزاروں بے گناہوں کی موت کا ذمہ دار ڈائریکٹ ان کو ٹھرایا گیا ہے ۔
    مہاجر ریپبلکن آرمی کیا ہے ؟یہ کہاں سے آپریٹ ہو رہی ہے ؟اس کے سرپرست کون ہیں ؟
    کیا یہ باتیں کوئی راز ہے ؟ کیا ہمارے ملک کی حساس ایجنسیاں اور ملک دشمنوں کے خلاف بر سر پیکار ادارے ان سے واقف نہیں ؟
    کیا وہ نہیں جانتے 1993کی مہاجر ریڈ آرمی کے کرتاؤں دھرتاؤں کو ؟یا وہ نہیں جانتے متحدہ انٹیلی جنس ونگ کو ؟یا انھیں مہاجر صوبہ تحریک کے دفاتر کا علم نہیں ؟ کیا انھیں اس وقت کی مہاجر قومی موومنٹ کے 70 الکرم اسکوائر کا ایڈریس بھول گیا ہے جہاں سے آج یہ ذیلی شعبے متحرک ہیں یقیناًانھیں یاد ہے اور سب کچھ پتہ بھی ہے لیکن ان کی مجبوری یہ ہے کہ وہ ماتحت ہے ایسے لوگوں کے جو کہ کبھی مفاہمت کے نام پہ اور کبھی اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے ان لوگوں کی سرپرستی کرتے ہیں ۔
    اگر کبھی ملک و ملت کے مفاد میں ہمارے ادارے اپنی کاروائیاں کرتے ہیں تو ان کو عدالتوں میں گھسیٹا جاتا ہے اور ان کے اختیارات پر ایک لمبی بحث شروع ہو جاتی ہے پورے ملک کا میڈیااور غیر ملکی فنڈز پر چلنے والی NGOایک شور مچا دیتے ہیں کیا ٹھنڈی گاڑیوں میں سفر کرنے والوں نے یا میڈیا میں missing person کے اہلخانہ کی اپیل چلانے والوں نے کبھی ان ہزاروں معصوم بچوں کا حال بھی معلوم کیا ہے جن کے پیارے کبھی مذہب تو کبھی زبان کی بنیاد پر ان missing personکی درندگی کا شکار ہو جاتے ہیں ؟
    اگر آج حساس ادارے کراچی میں قیام امن کے لئے اپنا کردار ادا کریں تو کیا یہ ہی لوگ ان کے خلاف ایک محاذ نہ کھڑا کر دینگے ؟
    اگر اس روشنیوں کے شہر کو بچانا ہے تو ہمیں اپنے اداروں کو طاقت و قوت کے ساتھ ساتھ اپنا اعتماد بھی دینا ہو گا اور جس دن ہم نے یہ کر لیا تو یقیناًمائی کلاچی کا شہر پھر جگمگائے پھر سے لو گ اپنے خوابوں کے شہر میں سمندر کی ٹھنڈی ہوا ؤں میں اپنے خوابوں کو تعبیر دیں گے ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s