نیٹو سپلائی کھولنے کا خطرناک فیصلہ ۔ مفتی عمیر محمود صدیقی

اسٹینڈرڈ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

جنرل کیانی کے نام
پاکستان کی مثال ایک  پانی کے جہاز کی سی ہے جس کی کئی منزلیں ہیں اور وہ طوفانوں میں گھرا ہے. سیاست دان اس میں سوراخ کر رہے تا کہ یہ جہاز غرق ہو جائے۔اور پاکستان آرمی ان کو دیکھ رہی ہے۔

کتنی خوبصورت مثال حدیث میں دی گئی ہے۔ذرا ملاحظہ ہو۔

قال مثل القائم علی حدود اللّٰه والواقع فيها کمثل قوم استهموا علی سفينة فاصاب بعضهم اعلاها و بعضهم اسفلها فکان الذين فی اسفلها اذاستقوا من الماء مروا علی من فوقهم فقالوا لو انا خرقنا فی نصيبنا خرقا ولم نؤذ من فوقنا فان يترکوهم وما ارادوا هلکوا جميعا و ان اخذوا علی ايديهم نجوا و نجوا جميعا. (بخاری، کتاب الشرکه)

”آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص کی مثال، جو اللہ کی حدود پر قائم ہے اور اس شخص کی جو اللہ کی حدود میں پڑنے والا ہے، ان لوگوں کی سی ہے، جو ایک جہاز میں اس طرح بیٹھے ہیں کہ ان میں سے کچھ اوپر کی منزل میں ہیں اور کچھ نچلی منزل میں۔ جب نیچے والوں کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ جہاز کی اوپر کی منزل میں آ کر پانی لے لیتے ہیں۔ پھر اگر وہ یہ خیال کر کے کہ پانی کے لیے ہمارے باربار اوپر جانے سے اوپر والوں کو تکلیف ہوتی ہے، یہ فیصلہ کریں کہ ہم کیوں نہ جہاز کے نچلے حصے میں سوراخ کر کے سمندر سے پانی لے لیا کریں اور اوپروالوں کو نہ ستایا کریں۔ اس صورت میں، اگر اوپر والے یہ سوچ کر کہ یہ لوگ اپنے حصے میں سوراخ کرتے ہیں، ہمیں اس سے کیا سروکار، اس پر خاموش رہتے ہیں تو نیچے والوں کے اس فعل کے نتیجے میں جب جہاز ڈوبے گا تو اوپر والوں اور نیچے والوں، دونوں کو لے کر ڈوبے گا۔ اور وہ ان کو روک دیں گے تو دونوں فریق ڈوبنے سے بچ جائیں گے۔”
نیٹو سپلائی کھولنے کے فیصلے میں کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ پاکستان آرمی کی اعلیٰ قیادت ملوث نہ ہو۔پہلے بھی ہوائی راستے سے اسلحہ جا ہی رہا تھا صرف قوم کو اندھیرے میں رکھا گیا تھا۔
اس نا چیز کی رائے میں اس حکومت سے ہمیں گلا نہیں ہے۔
کیونکہ یہ اپنی اور قوم کی عزت و آبرو بیچ چکے ہیں
مجھے گلا ان فوجی جوانوں سے بھی نہیں جو فلک بوس پہاڑوں اور تپتے ریگستانوں میں اپنے خون کا پہلا اور آخری قطرہ اس پاک سر زمین کے لئے بہا رہے ہیں
مجھے گلا ان محب وطن افراد سے بھی نہیں جو اپنی قدرت و بساط کے مطابق قو م کو سہارا دے رہے ہیں۔

مجھے گلا صرف تین لوگوں سے ہے
ایک چیف جسٹس آف پاکستان
دوسرا ڈی جی آئی ایس آئی
اور تیسرے ہمارے اشفاق کیانی صاحب
شرعی اعتبار سے ہم یہ بات واضح الفاظ میں بتا دیں کہ حالت جنگ میں دشمن کو لوہا بیچنے کی بھی اجازت نہیں کہ وہ اس سے اسلحہ بنا کر مسلمانوں پو حملہ آور ہو گا چہ جائیکہ آپ ان کی سپلائی لائن کھول دیں۔آرمی چیف نے حرام فاحش کا ارتکاب کیا ہے۔
پاکستان آرمی کی قیادت کس منہ سے ان طالبان سے بات کرے گی جو دشمن کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔یہی وہ غلطیاں ہیں جن کی بنا پر آپ کے اندر فوج کی تکفیر کرنے والا گروہ پیدا ہوتا ہے۔یہ اہل ایمان کی صفت نہیں ہے۔
کیا ان آفیسرز میں کوئی مومن نہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
کیا ہمارے آرمی چیف کی غیرت مر چکی ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
کیا نہوں نے بھی قوم کی عزت و ناموس بیچنے کا فیصلہ کر لیا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
یہ پاکستان آرمی کی قیادت کے پاس آخری موقع ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یا تو اس ملک میں  اسلام کو فوری طور پر نافذ کریں ورنہ یاد رکھیں اللہ تعالیٰ کی قوموں کو عروج و زوال دینے کی سنت کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔
جب عالم اسلام کا مرکز بغداد تباہ ہو سکتا ہے
جب اسپین تاخت و تاراج ہو سکتا ہے
جب سلطنت عثمانیہ بے چراغ ہو سکتی ہے
جب مدینہ منورہ پر یزیدی فوجیں حملہ آور ہو کر تین دن تک مدینہ طیبہ کو فوجوں پر حلال کر سکتی ہیں اور
جب سادات خواتین کی مدینہ شریف میں عصمت دری کی جا سکتی ہے۔
جب کعبۃ اللہ پر سنگ باری ہو سکتی
اور حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو شقی لوگ قتل کر سکتے ہیں
اور پاکستان 1971 میں دو لخت ہو سکتا ہے۔
بلوچستان اور کراچی میں عملا آپ کی عمل داری ختم ہو سکتی ہے
قبائلی علاقوں میں آپ اپنے مسلمان بھائیوں کو ڈرون حملوں کے رحم و کرم پر مرنے کے لئے چھوڑ سکتے ہیں تو یاد رکھیں کہ راقم اور قاری، جو سمجھے بیٹھیں کہ ہم محفوظ رہیں گے تو یہ کبوتر کی طرح حقیقت سے آنکھ چرانا ہے
بہت واضح الفاظ میں آرمی چیف کو یہ پیغام ملنا چاہیئے کہ تمہارے کندھوں پر جوپھول سجے ہیں اس میں پاکستانی قوم کا خون شامل ہے ان شہداء کے خون کو ضائع مت کرو۔مرنا تو ہے ہی ایک دن اگر اسی طرح قوم کو ذلیل ہی کرنا ہے تو اپنا عہدہ چھوڑ دو ورنہ تمہیں وہ لوگ اسلامی تاریخ میں اچھے کلمات سے یاد نہیں کریں گے۔
ہماری مثال ان بکریوں کے ریوڑ کی مانند ہے جسے مذبح خانے لے جایا رہا ہو اور وہ ایک دوسرے کو سینگ مارتی ہوئی اپنے انجام سے بے خبر اس طرف چلی جا رہی ہوں۔
اللہ کا فیصلہ ہے کہ یہ دین غالب تو آئے گا کیانی صاحب آپ کی خدمات کا اللہ محتاج نہیں  ہے۔
آپ یہ کام نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ کسی اور قوم کو لائے گا جو اللہ سے محبت کرے گی اور وہ اللہ سے۔
ہماری رائے میں سپلائی لائن کھولنے کے دو خطرناک نتائج فوری طور پر سامنے آسکتے ہیں۔
1۔ٹی ٹی پی کی کاروائیوں میں شدت
2 پاکستان آرمی میں بغاوت کا خدشہ(اگر ان میں ایمان اور زندگی باقی ہے)
قوم تو مایوس ہو چکی ہے  مایوسی عمل سے دور ہو گی خوبصورت تقریر سے نہیں
اگر کوئی ایسا منصوبہ ہے کہ سپلائی لائن کھول کر اندر سے حملہ کروایا جائے گا تو ہمیں اس کا اعتبار اب کم ہی ہے ۔
بہر حال ہم دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت اہل اسلام کے حال پر کرم فرمائے۔
ان ظالموں نے اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر بھروسہ کیا ہوتا تو اللہ ضرور مدد فرماتا۔
مگر وھن پیدا ہو گیا ہے۔
دنیا کی محبت اور موت کا خوف۔
اللہ خیر فرمائے۔امین

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s