سیدہ کا نکاح غیر سید سے کرنا اور اہلِ بیت کی فضیلت ۔[مترجم] مفتی عمیر محمود صدیقی

اسٹینڈرڈ

8 responses »

  1. السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    حوصلہ افزائی کا شکریہ
    جناب بعض اوقات قانونی زبان استعمال کرنا پڑتی ہے اس لیے ذرا کبھی کبھی مشکل ہو جاتی ہے۔ویسے اتنی بھی مشکل نہیں
    دعا کی گزارش
    و السلام

  2. She is said to be Bint e Ali but she was not Fatmiah’s daughter.

    اسی طرح کی بعض دیگر روایات کی بنیاد پر ہی بعض علماء متقی عالم سے سیدہ کے نکاح کے جواز کے قائل ہیں۔اس مسئلے میں علماء کی مختلف آراء بعض اس کے قائل ہیں کہ نکاح غیر سید میں منعقد ہی نہیں ہوتا جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ نکاح منعقد ہو جاتا ہے مگر یہ بہتر نہیں ہے۔اسی طرح اس طرح کی بعض روایات کی بنیاد پر بعض علماء اس کے قائل ہیں کہ متقی عالم کفو سیدہ کا ہو سکتا ہے۔
    ہماری رائے میں سیدہ کا نکاح سید سے ہونا شرط نہیں یعنی ایسا نہیں کہ کسی سید باپ نے اپنی سید بیٹی کا نکاح کسی غیر سید سے کر دیا تو نکاح منعقد نہیں ہو گا اور وہ لڑکی حرام کی مرتکب ہو رہی ہے بلکہ یہ واجب تھا کہ وہ لڑکا جو سید نہین وہ سیدہ کا احترام کرتا اور وہاں نکاح نہ کرتا۔تاہم نکاح ہو گیا۔اور جب علماء کا کسی مسئلہ میں خاص طور پر اس طرح کے مسائل میں اختلاف ہو تو بہتر یہی ہے کہ نہ کیا جائے۔بہرحال متقی عالم کو بھی چاہیئے کہ اس سے احتراز ہی کرے۔دوسری بات یہ کہ جب سادات اشراف اس بات کو عار سمجھتے ہیں تو ہمیں ان کی اس بات کا احترام کرنا چاہیئے اور زبردستی مسائل پیدا نہیں کرنے چاہیئے۔

  3. اگر کوئی سیدہ اپنے غیر کفو میں نکاح کرے تو ان کے سید والد کو اختیار ہے کہ وہ عدالت سے اس نکاح کو فسخ کروا سکتے ہیں۔

  4. بعض لوگ کہتے ہیں کہ نکاح میں کفو کا کوئی اعتبار نہیں اور نہ ہی نسب کی کوئی اہمیت ہے۔حدیث میں ہے کہ ہر نسب ختم ہو جائے گا سوائے میرے نسب کے اور اہل بیت کی فضیلت کسی پر چھپی نہیں۔فرمایا گیا کہ جو اہل بیت کی محبت میں مرا وہ شہید ہے۔
    اہل بیت وہ بزرگ ہستیاں ہیں جن کو نبی کریم ﷺ نے حضرت سیدنا علی،فاطمہ الزہراء حضرت امام حسن و حسین علیہم السلام کو معراج کا وہ راز اور علم عطا فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو عطا فرمایا تھا۔
    حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ام کلثوم بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو نکاح کا پیغام بھیجا تھا مگر وہ قبول نہ ہوا
    آپ نے اس کے علاوہ ام کلثوم ملیکہ بنت جرول سے نکاح کیا
    اس کے علاوہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک نکاح حضرت ام کلثوم بنت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنھا کیا جن کی والدہ حضرت فاطمہ الزھراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں۔ان سے حضرت زید اور رقیہ کی ولادت ہوئی۔
    یاد رہے کہ حضر ت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قریشی تھے اور قریشی قریشی کا کفو شرعا بن سکتا ہے۔
    جیسے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نبی کریم ﷺ کی دو صاحبزادیوں سے یکے بعد دیگرے نکاح فرمانا
    نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قریش ایک دوسرے کا کفو ہیں۔یعنی قبیلہ قریش ایک دوسرے کا کفو بن سکتے ہیں۔اور تمام خلفاء راشدین قریشی تھے۔
    مگر یہاں اس کا بھی خیال رہے کہ ہاشمی اور فاطمی اس میں مزید نسب کی حفاظت کا خیا ل رکھتے ہیں۔اسی لیے بعض علماء سیدہ کے نکاح میں کفو ہونے کے لیے فاطمی ہونے کو بھی ضروری قرار دیتے ہیں۔
    پس شرعی اعتبار سے قریشی ایک دوسرے کا کفو ہو سکتے ہیں تاہم اگر سادات ٖغیر سادات میں نکاح نہ کرنا چاہیں تو یہ ان کا حق ہے ۔اس پر ان کا مذاق اڑانا اور طعن کرنا ہلاکت کا سبب ہے۔
    غیر قریشی کو بالخصوص اور غیر سادات کو بالعموم اس سے اجتناب کرنا چاہیئے۔

  5. قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :قُرَيْشٌ بَعْضُهُمْ أَكْفَاءٌ لِبَعْضٍ بَطْنٌ بِبَطْنٍ ، وَالْعَرَبُ بَعْضُهُمْ أَكْفَاءٌ لِبَعْضٍ قَبِيلَةٌ بِقَبِيلَةٍ وَالْمَوَالِي بَعْضُهُمْ أَكْفَاءٌ لِبَعْضٍ رَجُلٌ بِرَجُلٍ
    أَنَّ لنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : { أَلَا لَا يُزَوِّجُ النِّسَاءَ إلَّا الْأَوْلِيَاءُ ، وَلَا يُزَوَّجْنَ إلَّا مِنْ الْأَكْفَاءِ
    عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ { تَخَيَّرُوا لَنُطَفِكُمْ وَانْكِحُوا الْأَكْفَاءَ
    مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَالَ لَهُ : { يَا عَلِيُّ ثَلَاثٌ لَا تُؤَخِّرْهَا : الصَّلَاةُ إذَا أَتَتْ ، وَالْجِنَازَةُ إذَا حَضَرَتْ ، وَالْأَيِّمُ إذَا وَجَدَتْ كُفُؤًا
    لَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَاطِمَةُ مُضْغَةٌ مِنِّي يَقْبِضُنِي مَا قَبَضَهَا وَيَبْسُطُنِي مَا بَسَطَهَا وَإِنَّ الْأَنْسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَنْقَطِعُ غَيْرَ نَسَبِي وَسَبَبِي وَصِهْرِي وَعِنْدَكَ ابْنَتُهَا وَلَوْ زَوَّجْتُكَ لَقَبَضَهَا ذَلِكَ قَالَ فَانْطَلَقَ عَاذِرًا لَهُ
    عن أبي ليلى الكندي قال : أقبل سلمان في اثني عشر رجلا من أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم ، فحضرت الصلاة فقالوا : تقدم يا أبا عبد الله ، فقال : إنا لا نؤمكم ، ولا ننكح نساءكم
    قال ابن شهاب في العربي والمولى : لا يستويان في النسب.
    قال عمر : لامنعن فروج ذوات الاحساب من النساء إلا من الاكفاء.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s