ہزارہ قتل عام : نسلی تعصب اور مسلکی اختلاف [ا] ۔ اوریا مقبول جان

اسٹینڈرڈ

Advertisements

One response »

  1. فرقہ واریت پھیلانے والوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو ملک میں خانہ جنگی شروع ہوجانے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے۔
    بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر فرقہ واریت کو ہوا دیتی ہے تاکہ لوگ اپنے مسائل میں الجھے رہیں اور ان کی توجہ ارباب اقتدار کی نااہلیوں و کرپشن کی طرف نہ جائے مگر میرا اس موقف سے اتفاق نہ ہے۔ کوئی حکومت اپنے عوام کے معاملہ میں ،اس طرح کی مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ نہیں کرسکتی۔

    البتہ پاکستان اور اسلام کے دشمن یہی چاہتے ھیں کہ شعیہ سنی فسادات کو ہوا دی جائے اور اس طرح اس ملک کے ٹکڑے کر دئے جائیں۔ موجودہ اشتعال انگیز فضا میں خدانخواستہ فرقہ واریت کا کوئی بڑا سانحہ ، کسی وقت بھی رونما ہو سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال کا فائدہ صرف اور صرف دہشت گردوں کو پہنچ رہا ہر اور پہنچے گا۔
    ملک پہلے ہی دہشت گردی کی آگ میں جھلس رہا ہے اور اس کی اقتصادیت کا جنازہ نکل چکا ہے اور ۴۰،۰۰۰ سے کے قریب معصوم و بے گناہ لوگ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔
    ملک میں فرقہ واریت کی بنیاد پر قتل و غارت گری اور افراتفری کی فضا پیدا کرنے کی سوچی سمجھی سازش ہے اس لئے جہاں دشمن کی اس گھناﺅنی سازش کا کھوج لگا کر اسے بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے‘ وہاں قومی اور ملی یکجہتی کی فضا پیدا کرنے اور دشمن کی سازش کو ناکام بنانے کیلئے تمام مکاتب فکر کے علماءکرام بالخصوص اہلِ تشیع اور انکے مذہبی قائدین و پیشواﺅں کی جانب سے تحمل و بردباری کے جذبے کو فروغ دینے کیلئے اپنے عملی کردار کو بروئے کار لانے کی بھی ضرورت ہے۔
    دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی میں جرآت مندانہ کارروائیوں کے لیے سیاسی ارادے اور منصفانہ عملدرآمد کی ضرورت ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک فوج، سیاسی حکومت اور لوگوں کے درمیان بہتر تعاون اور اشتراک قائم نہ ہو۔ پاکستان میں سکیورٹی کی مجموعی صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ ملک کو لاحق اہم سکیورٹی چیلنجز اب بھی حل طلب ہیں اور حکومت کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف ایک جامع اور موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
    اگر ملک میں فرقہ ورانہ کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تو اس سے ملک کی سلامتی کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے اس لئے اس ان واقعات پر محض افسوس اور رسمی مذمت کے اظہار پر ہی اکتفا نہ کیا جائے بلکہ حکومت کی سطح پر سب سے پہلے تمام مکاتب فکر کے نمائندہ علماءکرام کی کانفرنس طلب کرکے اتحاد بین المسلمین کی فضا مستحکم بنائی جائے اور فرقہ واریت کی بنیاد پر کسی قسم کی غلط فہمی کو جنم نہ لینے دیا جائے اور سیاستدانوں کو بھی اپنا کردا ر موثر طریقے سےادا کرنا چاہیئے۔

    —————————————————————————-

    پڑہئیے گا میرا تازہ ترین بلاگ: افغانستان کے صوبہ تخار میں زہریلا پانی پینے سے سکول کی طالبات متاثر

    http://www.awazepakistan.wordpress.com

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s