ماہِ محرم ۔ سیدہ قدسیہ مشہدی

معیاری

ماہِ محرم پھر آ پہنچا ہے،دل چیرتا ہوا محرم، آنکھوں سے لہو بہاتامحرم۔ کائنات میں زلزلہ لانے والا محرم۔ قیامت کے قائم ہونے والا ماہ، محرم۔

کیا کیا کچھ نہیں ہوا محرم میں؟اور خاص طور پر عاشورہ کےدن کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ آدم ؑکی پیدائش، ان کی توبہ کی قبولیت، ابراہیم ؑ کی آگ سے نجات ، یوسف ؑ کی برسوں بعد والد سے ملاقات ، ایوب  ؑکی بیماری سے نجات اور سلیمان ؑکو بادشاہت کا ملنا اور سب سے  بڑھ کر اسلام کی حیاتِ نو ایک عظیم قربانی کے بعد ۔ لیکن یہ واقعہ ایسا ہے جو سال کے کسی دن بھی یاد آجائے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔

الفاظ  میں تو بیان ہو نہیں سکتا، یہ اتنا بڑا غم ہے، سانحہء عظیم ہے۔لکھنا چاہتی ہوں، لکھ نہیں پاتی۔ کیسے لکھوں کہ ہمارے محبوب آقا و مولا محمد مصطفیٰ سرورِ کون و مکان صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم کا نواسہ اُن ہی کی امت کے ہاتھوں بیدردی سے شہید کر دیا گیا۔ کیا کسی عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم کے لیے اس سے بڑا کوئی غم ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ آنسووں کا سیلاب ہے جو کہ تھمتا نہیں۔ اور آقا صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم کی امت اس بحث میں الجھی ہے کہ کیا بدعت ہے، کیا رسم ہے کیا جائز ہے کیا ناجائز ہے؟ یہ طے کر کہ بیٹھے ہیں کہ کس فرقے نے ماتم کرنا ہے اور کس نے اس پیارے نواسے کو یا د کرنا ہے اور کس نے  اس طرح   اپنی زندگی میں مگن رہنا ہے جیسے کچھ بھی نہ ہوا ہو۔ اس بات پر فضول بحث کی جاتی ہے کہ امام کے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ لکھنا ہے کہ علیہ السلام۔ افسوس کا مقام ہے۔ ایسی مبارک ہستیوں کے لیے ، جنت کے سرداروں کے لیے تو جتنے بھی تحسینی کلمات کہے جائیں، وہ کم ہیں۔جب آقا کریم ﷺنے فرما دیا کہ ” حسینؑ مجھ سے اور میں حسینؑ سے ہوں” تو ہم اس بات کا مطلب کیوں نہ سمجھ سکے؟

حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
امامؑ عالی مقام نے اپنا سر کٹوا کر اُمت کے لیے دین بچا لیا اور اُمت ان پر سلام بھیجنے میں بھی بخیلی سے کام لیتی ہے۔ اللہ اللہ۔
محرم کے آنے پر میں غمگین ہو گئی تو ایک صاحب نے بہت ظنزیہ انداز میں کہا “لو جی پیٹنے اور غم منانے کا موسم آگیا ہے۔” انتہائی بد قسمت ہیں وہ مسلمان جن کا دل عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم اور عشقِ اہلِ بیت سے خالی ہے۔ جب ایک بہن نے یہ جملہ سنا تو کہنے لگی کہ یہ تو وہی بات ہے کہ کوئی آپ سے کہے کہ آپ سے تو محبت ہے لیکن آپ کے بچوں سے نہیں۔ آپ کے بچوں پر تکلیف آتی ہے تو آئے، میں تو آپ کا عاشق ہوں۔ جن نواسوں پر ہمارے پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم جان وارتے تھے، جن کو اپنا بیٹا کہتے تھے، ان نبی زادوں کے ساتھ ظلم کی آخری حدیں پار کر دی گئیں۔آسمان غم و غصے  سے سرخ ہوگیا، آفتاب گہنا گیا، تمام مخلوقات ، چرند، پرند، جن و انس میں صف ماتم بچھ گئی اور ہم ابھی یہ سوچ رہے ہیں کہ اس بات پر غم کریں کہ نہ کریں؟ افسوس صد افسوس۔
مسلمانوں یہ غم تو سارا سال دل میں رہنا چاہیے۔ اورامامِ ذیشان کے بے مثال کردار پر عمل کی کوشش ہونی چاہیے۔ہم کیوں فرقوں کے چکر میں پڑ گئے ہیں؟ نبی ؐ ہم سب کے اور ان کے پیارے نواسے بھی ہم سب کے۔ نہ ہم شیعہ، نہ ہم سُنی، نہ ہم وہابی، نہ ہم دیوبندی۔ ہم آقاؐ اور ان کی آل کے عاشق ہوں، بس۔ افسوس کی بات ہے کہ آج شہادت امام حسینؑ کی یاد منانے والوں کو ایک خاص مکتبہ فکر سے منسوب کر دیا جاتا ہے۔ اگر آپ کے سامنے کوئی آپ کے بیٹے کو ذبح کر دے تو کیا رہتی دینا تک وہ غم آپ بھول پائیں گے؟ اور یہ درد ناک خبر تو حضور ؐ کی زندگی ہی میں جبرائیلؑ ان تک پہنچا چکے تھے۔ اور ہمارے پارے نبی ؐنے جبرائیلؑ سے فرمایا  تھاکہ کیا کوئی ایسی صورت ہو سکتی کہ میرا پیارا نواسہ بچ جائے، تو انہوں نے کہا کہ ایساہو سکتا ہے لیکن پھر اللہ کا دین  دنیا سےمٹ جائے گا۔ کاش کہ ہم اس بات کا ہی لحاظ کر لیں کہ ہمارے آقاؐ نے اپنے جگر کے ٹکڑے ہم جیسوں کی خاطر قربان کر دیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم نے بھی اپنی حیات مبارکہ میں اس غم پر آنسو بہائے ۔شہادت حسین کی پیشن گوئی کرتے ہوئے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کربلا کی مٹی دے کر فرمایا ،”ام سلمہ رضی اللہ عنہا! یاد رکھنا اور دیکھتی رہنا کہ جب یہ مٹی سرخ ہو جائے تو سمجھ لینا میرا حسینؑ شہید ہوگیا ہے۔”

ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے وہ مٹی سنبھال کر رکھی حتی کہ ہجری کے 60 برس گزر گئے، 61 کا ماہ محرم آیا۔ 10 محرم الحرام کا دن تھا، میں لیٹی ہوئی تھی خواب میں دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رو رہے ہیں، ان کی مبارک آنکھوں سے آنسو رواں ہیں، سرِ انور اور ریشِ مبارک خاک آلودہ ہے، میں پوچھتی ہوں یا رسول اللہ! یہ کیفیت کیا ہے؟ میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روتے ہوئے فرماتے ہیں ام سلمہ! میں ابھی ابھی حسینؑ کے مقتل (کربلا) سے آ رہا ہوں، حسینؑ کی شہادت کا منظر دیکھ کر آیا ہوں، ادھر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خواب میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی اور ادھر مکہ معظمہ میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دوپہر کا وقت تھا میں لیٹا ہوا تھا۔ خواب دیکھتا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا ئے ہیں، پریشان حال ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک میں ایک شیشی ہے، اس شیشی میں خون ہے میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ خون کیسا ہے فرمایا! ابن عباس! ابھی ابھی مقتل حسینؑ سے آیا ہوں یہ حسینؑ اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے، آج سارا دن کربلا میں گزرا۔ کربلا کے شہیدوں کا خون اس شیشی میں جمع کرتا رہا ہوں۔”

جب میرے آقا ؐاور مولا ؐ پریشان حال نظر آئے تو ہم جو نبیؐ سے محبت کے دعوے دار ہیں ، ہم کیوں نہ نبیؐ کے اس غم میں شریک ہوں؟ ہم نبیؐ کے گھر والوں پر اس ظلم عظیم پر کیسے نہ تڑپیں؟ آنکھوں سے اشک کیسے نہ رواں ہوں؟ ہاں ہاں یہ سب ہو گا لیکن اس  دل کے ساتھ جو آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عاشق ہے۔

جس طرح مجھ کوشہید کربلا سے پیار ہے
حق تعالیٰ کویتیموں کی دعا سے پیار ہے
رونے والا ہوں شہیدکربلا کے غم میں
کیادُر مقصود نہ دیں گے ساقی کوثرؐ مجھے

ہر درد مند دل کو رونا میرا رولا دے
بے ہوش جو پڑے ہیں شائد انہیں جگا دے

Yeh bil yaqeen Hussain hai [Hafeez Jalandhari] from Ahlulbayt on Vimeo.

15 responses »

  1. Masha Allah, May Allah give Jaza e Khair for this excellent article in Urdu and increase your darajaat, ,the most depressing situation is this that our Imam Aali Muqaam gave such a sacrifice to safe guard his Nana’s Deen from sure extinction because the successor of the Evil Moaviah who was saying “who says revelations came , it was all a scheme of the Mohammad (s) to rule over the people ” (ma’az Allah) and what the Ummah have been doing since then and have been doing even today when every information has reached at least every literate person but there is some one named Shamim from Mayapuri Delhi who sent a greeting message to his list , unfortunately it was redirected to me from a relation of mine who unfortunately asked me not to retaliate harshly for this great blasphemy The man wrote ‘NEW YEAR 1433 AAP SAB KO MUBARAK HO’

  2. لازوال محبت سے مزّین،آپکی یہ تحریر نے دل کو چھولیا،شکریہ جیسے الفاظ کم ہیں،اللہ سے دعا ہے کہ مسلم امّہ کو قرآن کا فہم عطا کرے۔آمین

  3. Momin ke elawa Ali se koi mohabbat nahin kar sakta aur Munafiq ke elawa koi Ali se buguz nahin rakh sakta.

    Ajj ke dor mai hamain yh baat aam nazar atti hai tama dushmanaan e Ahly e Bayat mai jo in bato ko siassi rang dai daite hain.

  4. Pedaish-e-Imam Hussain(as.) k moqa pr Gibraeel-e-Ameen 70,000 Malaeka k hamraah Aaqa Kareem(saww) ko mubarikbad dene aey leken Shahadat-e-Imam k mutalik bhi ALLAH SWT ka pegham Ap(saww) tak pohncha diya.
    Iss pr Aap(saww) ki Aankhon se Aansoo rawaan ho gae, Bibi Fatima(sa) ne poocha k baba jaan is khushi k moqa pr ye Aansoo kese.? to Ap(saww) ne frmaya k Fatima(sa) abhi abhi Gibraeel ayay tha or ye khaber bhi de gaye hain keh Ap(saww) k Nawasey ko Ap(saww) ki Ummat Karbala k bayabaan sehra mai 3 din ka bhooka piasa shaheed kr de gi is liye shidat-e-gham se Aansoo nikal pare, to Bibi Fatima Zahra(sa) ne frmaya k kia uss waqt Ap(saww) nahi hon ge.? Farmayaus:nahi.. Poocha:kia os k baba Ali(as) ya Mai(sa) bhi nhi.? Farmaya:nahi.. poocha:jab koi bhi nhi hoga to to kia mere betey ki qurbani yunhi raegan jae gi or bhula di jae gi.?
    Ap(saww) ne frmaya nhi, ALLAH SWT aik esi Qom Peda farmaey ga k jo tumhare betey ki Yaad mai Aansoo bahaey gi or usski Qurbani ko Zinda rakhey gi, to Bibi Fatima(sa) ne frmaya k phir mai bhi aik Nabi(as) ki beti ho kar ye kasam khati hun k uss waqt tak Jannat mai Qadam nhi rakhon gi jab tak uss Qom k hr aik fard ko apney sath na le jaon.”

    Choice is open for every one. You want to be apart of that promised Nation or the ones who in the battlefield of Karbala were saying that “hurry up,,,quickly Kill The Hussain(as)…’We are getting Late for PRAYER’.”

  5. Amazing sister, this is best.. MashaAllah!! You have cleared so many things in this article. JazakAllah, I was also one of those who till yesterday was of thought that Gham e HUSSAIN A.S is only for Fiqa e Jafria.. Allah mujhe Maaf Karey. Astaghfirullah, JazakAllah for this soul shaking article. MashaAllah. Salam to arifa aapa as well..

  6. صلى الله عليه و آله وسلم
    و رفعنا لك ذكرك
    أسلام عليكم و رحمة الله و بركاته

    Shukar Alhamdolillah… MashaAllah , jazak kil Allah khairan kaseera… very emotional and very
    touching . sister want to circulate it inshaAllah but kindly pl mention the references from where you quoted ahadees e mubarika and waqeyat mashaAllah.
    . buhat duago and duajo.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s